ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / صحت مند جمہوریت کے لیے متحرک عدلیہ ضروری : چیف جسٹس

صحت مند جمہوریت کے لیے متحرک عدلیہ ضروری : چیف جسٹس

Sun, 03 Oct 2021 12:32:07    S.O. News Service

نئی دہلی ،3؍اکتوبر (ایس  او نیوز؍یواین آئی) چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) این وی رمن نے مساوات اور انصاف کوایک دوسرے کا تکملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صحت مند جمہوریت کیلئے ایک متحرک عدلیہ ضروری ہے اور اس کیلئے وہ حکومت سے تعاون اور حمایت چاہتے ہیں۔

جسٹس رمن نے ہفتے کے روز یہاں نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی کی جانب سے ہفتے (پنڈت نہرو سے پنڈت جواہرلعل نہرو کی جینتی) کے ملک گیر قانونی بیداری مہم شروع کیے جانے کے موقع پر یہ اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تصور کے مطابق یکساں سماجی-معاشی انصاف کا ہدف حاصل کرنے کیلئے ملک کے کونے کونے تک قانونی بیداری لانا وقت کی مانگ ہے۔ کمزور طبقے کے لوگ بھی اپنے حقوق کے تئیں بیدار ہوں گے تو اس وقت وہ اپنا مستقبل خود بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بااختیار اور قابل بنانا آزادی کی اصل کلید ہے۔ عدم مساوات سے نجات کا یہی راستہ ہے۔ مساوات اور انصاف تک رسائی کے بغیر جامع اور پائیدار ترقی کا ہدف حاصل کرنا ناممکن ہوگا۔ کمزور طبقات اپنے حقوق سے آگاہ ہوں گے تب ہی وہ اپنا خودمستقبل بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے آئین ساز ہندوستان کی سماجی و معاشی حقیقت سے بخوبی واقف تھے۔ اسی لیے انہوں نے ایک فلاحی ریاست کا تصور کیا تھا جہاں کوئی بھی زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم نہ ہو۔ ان حقوق کے تحفظ کیلئے ہم سب کو قانون کے سامنے یکساں تحفظ اور مساوات دی گئیں۔ لیکن مساوی انصاف کی یہ ضمانت اس وقت تک کوئی معنی نہیں رکھتی جب تک کمزور طبقات اپنے حقوق کو نافذ کرنے کے قابل نہ ہوں۔

بابائے قوم گاندھی جی کو یاد کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ آج کا دن نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک تاریخی دن ہے۔ باپو کی تعلیمات اور فلسفہ نے نہ صرف ایک آزاد، روادار اور خود انحصار ملک کا راستہ دکھایا بلکہ کئی جدید تہذیبوں کو بھی شکل دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کا فلسفہ انسانیت کو ایک بہتر کل کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں ججوں کی کمی کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس بننے کے بعد، مئی سے اب تک، ان کی سربراہی میں، سپریم کورٹ نے مختلف ہائی کورٹس کیلئے 106 ججوں اور نو نئے چیف جسٹس کی تقرری کی سفارش کی ہے۔ حکومت نے اب تک 106 میں سے سات ججوں اور نو میں سے ایک چیف جسٹس کے نام کی منظوری دی ہے۔ امید ہے کہ حکومت باقی ناموں کو جلد ہی منظوری دے گی۔

انہوں نے اس موقع پر صدر رام ناتھ کووند اور مرکزی وزیر قانون کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے جسٹس یو یو للت اور جسٹس کھانولکر ڈریو کا قومی سطح پر قانونی بیداری پھیلانے کی مہم میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔


Share: